بریکنگ نیوز
بلاگز

لفظ سے دوا تک، کوالٹی کی تخلیق کا فلسفہ

Admin User 29 اپریل 2026 1
لفظ سے دوا تک، کوالٹی کی تخلیق کا فلسفہ - الجزیرہ نیوز
زبان سیکھنا محض الفاظ کا ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ ذہن کے اندر ایک نئی دنیا تعمیر کرنے کا نام ہے، جہاں اکثر لوگ دوسری زبان سیکھتے وقت اپنی غلطیوں سے گھبراتے ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ ’بے ترتیبی‘ ہی وہ خام مال ہے جس سے مہارت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔اس عمل کی سب سے خوبصورت مثال اس چھوٹے بچے کی ہے جو اپنی زبان سیکھتے ہوئے جب یہ کہتا ہے کہ ’’میں نے پانی کھایا‘‘ تو بظاہر ایک غلط جملہ بول رہا ہوتا ہے مگر لسانیات کی نظر میں یہ اس کی بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس کا دماغ ایک قاعدہ ایک اصول ترتیب دے چکا ہے کہ ہر عمل کے لیے ایک ہی طرح کا جملہ استعمال کرنا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے ذہنی انتشار ایک منظم ترتیب کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔دوسری زبان سیکھنا دراصل ایک پزل حل کرنے جیسا ہے، جس میں شروع میں تمام ٹکڑے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی کہتا ہے کہ "Yesterday I go to market" تو وہ پزل کے دو مختلف ٹکڑوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، جہاں وقت کا تصور تو موجود ہے مگر کام کی صحیح شکل ابھی غائب ہے۔یہ حالت ایک ایسی درمیانی زبان کی عکاسی کرتی ہے جو بظاہر بکھری ہوئی لگتی ہے لیکن درحقیقت ایک مکمل تصویر بننے کی تیاری کر رہی ہوتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے پہلی بار کھانا پکاتے ہوئے نمک یا مرچ کا توازن بگڑ جاتا ہے مگر یہی تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگلی بار ذائقہ کیسے بہتر بنانا ہے۔جس طرح زبان سیکھنے کے ابتدائی مرحلے میں الفاظ بکھرے ہوئے اور بے ترتیب ہوتے ہیں، اسی طرح کسی دوا کی تیاری کے آغاز میں خام مال اپنی خام حالت میں ایک طرح کے ’انتشار‘ کا شکار ہوتے ہیں جنہیں ایک خاص کیمیائی ترتیب اور فارمولیشن کے عمل سے گزارنا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں کوالٹی ایشورنس کا کردار صرف تیار شدہ گولی کو جانچنا نہیں ہے بلکہ اس پورے عمل کی نگرانی کرنا ہے جہاں ذرا سی بھی بے ترتیبی یا انحراف پوری دوا کے اثر کو زائل کرسکتا ہے۔
Admin User مزید خبریں →